شیعہ قرآنی منشور پر مبنی اسلامی وحدت کے خدوخال

نوع مقاله : مقاله پژوهشی

نویسندگان

1 پی ایچ ڈی، مطالعاتِ تطبیقی قرآن، المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی، قم، ایران

2 پروفیسر، مجتمع عالی قرآن وحدیث،جامعه المصطفی العالمیه ،قم،ایران

3 عضو انجمن قرآن ومستشرقان حوزه علمیه ،قم،ایران

چکیده

موجودہ دور میں اسلامی دنیا کے اندر باہمی اتحاد، فکری ہم آہنگی اور سیاسی مضبوطی کو مختلف نظریات اور سیاسی خیالات رکھنے والے گروہوں کے درمیان اختلافات  کی وجہ  سے  شدید چیلنجز درپیش ہیں۔ حالنکہ قرآنِ مجید اپنے آپ کو الٰہی یکجہتی کے ابدی میثاق اور  کبھی نہ بکھرنے  والی رسی   (حبل اللہ) کے طور پر متعارف کراتا ہے،لیکن فرقہ وارانہ تعصب پر مبنی تشریحات نے، جو تفسیری اور اعتقادی روایات سے لی گئی ہیں، بارہا کلامی تنازعات اور کشیدگی کو مستقل  حیثیت  کی شکل دے دی ہے۔اس تاریخی پس منظر کے برعکس، حوزہ علمیہ قم اوراسکے ہمراہ  ساٹھ سے زائد  جامعاتی  اور مدارس کے تحقیقی مراکز کی جانب سے «شیعہ مکتب  کے نقطۂ نظر سے قرآنِ کریم کے منشور» کا باضابطہ اجرا ایک بنیادی اور تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔پیشِ نظر تحقیق توصیفی  اور تجزیاتی منہج  اختیار کرتے ہوئے اس منشور کی چودہ  نکات کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے تاکہ بین المسالک وحدت کے حصول کے لیے اس کے نظریاتی  روشوں  اور عملی و اطلاقی حکمتِ عملیوں کو واضح کر سکے۔ یہ مطالعہ دست اول ماخذات اور تقریب بین المذاہب کی تازہ ترین تحقیقات کی بنیاد پر چار بنیادی موضوعاتی محوروں کا احاطہ کرتا ہے: ۱)مشترک ایمانی اور اعتقادی مبانی، بالخصوص قرآن میں تحریف کی قطعی اور اجماعی نفی (نفیِ تحریف) اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجودقرآن مجیدکے قطعی تواتر اور کامل صحت و حفاظت کی توثیق؛ ۲) ظنی روایات پر قرآنی محکمات کی حاکمیت، تفسیر بالرائے کی حتمی حرمت اور عقلِ سلیم کے انطباق کے ذریعے منہیج شناسی  ارتفسیری  انضباط کا قیام   ؛ ۳)«بروجردی–شلتوت پیراڈائم» کی روشنی میں اہلِ بیت (ع)   کی  علمی  اور فقہی مرجعیت کو تاریخی خلافت سے متعلق کلامی  تنازعات سے الگ کرتا ہے؛ اور ۴) معاشرتی نظم سے متعلق حقوقی اور  سیاسی تقاضے، قاعدۂ نفیِ سبیل،  اجنبیوں کےغلبے کی شرعی ممانعت، اور عالمی استکبار کے مقابلے میں امتِ واحدہ کی تمدنی شناخت کا احیاء۔یہ مقالہ ثابت کرتا ہے کہ شیعہ قرآنی منشور نے تقریبِ مذاہب کے لیے ایک نیا  معرفتی  معمار پیش کیا ہے؛ ایسا  نمونہ  جو نہ تو مسلکی امتیازات کو مسخ یا معدوم کرنے پر مبنی ہے اور نہ ہی یہ اجازت دیتا ہے کہ یہ  مسلکی اختلافات تکفیر اور دیگر مسالک کو خارج از اسلام قرار دینے کا حربہ بنیں، بلکہ قرآن کو مہجوریت  کے گرداب سے نکال کر کلامِ الٰہی کو برادرانہ   باہمی زندگی کرنے   کا دستور  اور جدید اسلامی تمدن کی تشکیلِ نو کے  قانون اساسی کے طور پر مقتدر بناتا ہے۔

کلیدواژه‌ها