آیت قتال کی روشنی میں جہاد کے حکم کا علمی تجزیہ اور اس سے متعلق شبہات کا جواب

نوع مقاله : مقاله پژوهشی

نویسندگان

1 قرآن وحدیث ہائر ایجوکیشن سینٹر، المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی قم میں علمی گروہ کے مدیر

2 پی ایچ ڈی، تفسیر موضوعی ، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی

چکیده

سورۂ توبہ کی پانچویں آیت، جسے  "آیت قتال"  کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جس کے بارے میں بعض شبہہ کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ آیت قرآنی  بلا کسی قید و شرط تمام مشرکین کے قتل و غارت کا حکم دیتا ہے۔ زیرِ نظر مقالہ میں اسی دعوے کی حقیقت کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ آیا واقعاً یہ آیت مطلق ہے یا اس کے  کچھ قیود و شروط بھی موجود ہیں،  اسی لئے یہاں تفسیری  اورتحلیلی  روش  کے تحت آیت کے ماقبل و مابعد، شانِ نزول اور دوسری قرآنی آیات کی روشنی میں اس کے مدلول کا جائزہ لیا گیا ہے، تحقیق سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مذکورہ آیت مطلق نہیں ہے بلکہ خاص طور پر ان مشرکین سے جہاد کا حکم دے رہی ہے جو بار بار عہد شکنی، فتنہ پردازی اور اہلِ اسلام پر مظالم ڈھانے میں مصروف تھے، لہذا قرآن مجید میں کسی کو بلا وجہ قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی گئی ہے۔

کلیدواژه‌ها