شهید امام خامنہ ای کے بیانات کی روشنی میں اسرائیل سے مقابلے کا قرآنی دستور

نوع مقاله : مقاله پژوهشی

نویسندگان

1 . پی ایچ ڈی اسکالر، فلسفہ و کلامِ اسلامی، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ریسرچ، اور مدعو استاد، آزاد یونیورسٹی ورامین

2 بی ایس (تاریخ اسلام )تاریخ اسلام ہائر ایجوکیشن سینٹر، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی

3 ایم فل، شعبهٔ زبان و ادبیات فارسی، زبان، المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی

چکیده

یہ تحقیق شهید امام خامنہ ای کے بیانات کی روشنی میں اسرائیل اور صہیونیسم سے مقابلے کے قرآنی دستور کو واضح کرنا چاہتی ہے۔ اس کا بنیادی سوال یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کیوں عالمِ اسلام کا سب سے اہم مسئلہ ہے اور قرآن و رہبر معظم کے افکار میں یہودی/صہیونی دشمن کے بارے میں کیا موقف ہے۔تحقیق لائبریری مصادر پر مبنی اور توصیفی-تجزیاتی ہے۔ اس میں قرآن مجید کی آیات، قومِ یہود کی تاریخی انحرافات، سیاسی صہیونیسم کے وجود میں آنے، پہلی صہیونی کانگریس 1897ء، استعماری منصوبوں اور امام خامنہ ای کے خطبات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مجید یہود اور مشرکین کو اہلِ ایمان کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے۔ یہودیوں کی منفی خصوصیات میں جنگ طلبی، دہشت گردی، مظلوم نمائی، نسل پرستی، زمین میں فساد، قساوتِ قلبی، کفر، بہتان تراشی اور انبیاء کی تکذیب شامل ہیں۔ صہیونیسم ایک نسل پرست، استعماری اور توسیع پسند تحریک ہے جس نے فلسطین کی سرزمین پر جعلی ریاست قائم کی۔ امام خامنہ ای اسرائیل کو ”سرطانی غدود“ اور امتِ مسلمہ کا اصل دشمن قرار دیتے ہیں اور جہادِ تبیین، اتحاد اور فلسطین کی حمایت پر زور دیتے ہیں۔ قرآن بنی اسرائیل کے دو مرتبہ فساد اور ان کی شکست کی پیشین گوئی کرتا ہے۔مقالہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کا موقف مکمل طور پر منطقی اور قرآنی ہے۔ یہودی/صہیونی قوم قابلِ اعتماد نہیں اور عالمِ اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ بیدار رہیں، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی سے گریز کریں، قرآنی تعلیمات اور الٰہی وعدوں پر بھروسہ رکھیں۔ صہیونیت کی شکست قریب ہے اور اسلامی بیداری نے مزاحمت کو تقویت دی ہے۔

کلیدواژه‌ها