قرآن اور گیتا میں عقلی تربیت کی روشوں کا تقابلی جائزہ

نوع مقاله : مقاله پژوهشی

نویسندگان

1 پی ایچ‌ ڈی اسکالر قرآن اور تربیت ، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی

2 اسسٹنٹ پروفیسر ، المصطفیٰ العالمیہ یونیورسٹی

چکیده

یہ تحقیق قرآن مجید اور بھگوت گیتا میں عقلی تربیت کے روشوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتی ہے، بالخصوص قرآن کی آیات اور گیتا کے منتخب فقروں کی روشنی میں۔ اس کا مقصد دونوں متون کے تعلیمی مضامین کا موازنہ اور ان کے مشترکہ و اختلافی پہلوؤں کی وضاحت ہے، کیونکہ اس موضوع پر خاطر خواہ تحقیق نہیں ہوئی۔تحقیق توصیفی، تحلیلی اور تقابلی طریقے سے کی گئی ہے۔ پہلے قرآن مجید کی عقلی تربیت سے متعلق تعلیمات بیان کی گئی ہیں، پھر گیتا کے منتخب فقروں سے موازنہ کیا گیا اور آخر میں مشترکات و اختلافات واضح کیے گئے ہیں۔نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مجید عقلی تربیت کے حوالے سے زیادہ عملی، جامع، مفصل اور جزئی تعلیمات پیش کرتا ہے، مثلاً آفاقی و انفسی آیات، انسان کی تخلیق کے مراحل، گزشتہ اقوام کے آثار اور سنن میں غور و فکر، اور دیگر عقلی و فکری اصول۔ دونوں متون میں مثالوں کا استعمال، اسلوبِ انذار، تفکر و تعقل کی دعوت اور سوالات جیسے طریقے پائے جاتے ہیں۔ تاہم بنیادی فرق یہ ہے کہ قرآن میں مثالوں کا مقصد غور و فکر اور عبرت ہے؛ تفکر و تعقل کی دعوت استدلالی انداز میں دی گئی ہے اور انسان کو دلیل و برہان کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ گیتا میں یہ انداز کم نظر آتا ہے۔ قرآن میں عقلی و استدلالی مکالمہ، تقابل، قصہ گوئی، دوسروں کے نظریات پر توجہ، قضاوت مخاطب کے سپرد کرنا اور عبرت آموزی جیسے متعدد طریقے بھی بیان ہوئے ہیں۔قرآن اور گیتا دونوں عقل کو ایک ادراکی قوت مانتے ہیں جو درست و نادرست میں تمیز کرتی ہے اور انسان کی سعادت و کمال کا سبب بنتی ہے۔ تاہم قرآن میں تعقل و تفکر پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور اس موضوع پر 300 سے زائد آیات موجود ہیں۔ قرآن کے عقلی تربیت کے روش زیادہ جامع، استدلالی اور متنوع ہیں، جو اس کی خصوصیت اور امتیاز کو واضح کرتے ہیں۔

کلیدواژه‌ها