قرآن اور اہل بیت (ع) کی نگاہ میں میاں بیوی کے معاشرتی اخلاق اور ثقافت پر اس کے اثرات

نوع مقاله : مقاله پژوهشی

نویسندگان

1 پی ایچ ڈی ، مطالعات تطبیقی قرآن ، المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی

2 اسسٹنٹ پروفیسر، المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی

چکیده

یہ تحقیق قرآن اور اہل بیت (ع) کی تعلیمات کی روشنی میں میاں بیوی کے معاشرتی اخلاق اور ثقافت پر ان کے اثرات کا جائزہ لیتی ہے۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ازدواجی زندگی میں اخلاقی فرائض خاندان کی مضبوطی، ثقافت اور معاشرے کی تشکیل میں کیا کردار ادا کرتے ہیں، اور باہمی اخلاقی ذمہ داری خاندانی زندگی کے استحکام کے لیے کیوں ضروری ہے۔تحقیق میں توصیفی-تحلیلی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ شادی کے بعد میاں بیوی پر ایک دوسرے کے مقابلے میں سنگین اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اگرچہ دونوں کے فرائض مختلف ہیں، وہ فطری ساخت کے مطابق ہم آہنگ ہیں اور خاندان کو مضبوط بناتے ہیں۔ اہم مشترک اخلاقی فرائض میں اظہارِ محبت، حسنِ اخلاق، عفو و درگزر، سخاوت، باہمی احترام، جائز خواہشات کی تکمیل، تعاون، شکرگزاری اور سلام کرنا شامل ہیں۔ قرآنی آیات جیسے روم: 21، نساء: 19، آل عمران: 134 اور تغابن: 14 محبت، رحمت، حسنِ معاشرت، درگزر اور صبر پر زور دیتی ہیں۔ اہل بیت (ع) نے بھی محبت، رواداری، خدمت اور احترام کی تاکید فرمائی ہے۔ اگر دونوں اپنے فرائض احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں تو خاندان کی کشتی مشکلات اور معاشرتی ناہمواریوں کے باوجود سلامتی سے کنارے لگتی ہے۔ غفلت سے خاندان کمزور اور ثقافتی و اخلاقی انحطاط کا شکار ہوتا ہے۔ میاں بیوی کے معاشرتی اخلاق محض انفرادی معاملہ نہیں بلکہ ثقافتی اور تمدنی حقیقت ہے۔ قرآن و اہل بیت کا متوازن نمونہ محبت بغیر افراط، باہمی احترام، تعاون، شکرگزاری اور عفو و درگزر پر مبنی ہے۔ اس پر عمل خاندان، معاشرے اور اسلامی ثقافت کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ بے اعتنائی خاندانی تزلزل اور اخلاقی زوال کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے مشترک اخلاقی فرائض کو خلوص، اعتدال اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔

کلیدواژه‌ها